19 نومبر 2011 - 20:30

لیبیا کے سابق ڈکٹیٹر معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو کل لیبیا کے جنوبی علاقے سے گرفتار کر لیا گیا۔

ابنا:‌ لیبیا کے ایک فوجی کمانڈر محمد العلاقی نے بھی اس خبر کی تصدیق کرتے ہوۓ کہا ہے کہ سیف الاسلام کو اوباری شہر کے قریب سے گرفتار کیا گیا ہے سیف الاسلام کے ساتھ گرفتار کۓ جانے والے افراد نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سیف الاسلام نائجریہ بھاگنے کی کوشش کررہا تھا جہاں وہ اپنے بھائی کے پاس جانا چاہتا تھا۔ سیف الاسلام قذافی کا دوسرا بیٹا ہے جس نے لندن میں تعلیم پائی ہے اور اسے انگریزی زبان پر عبور حاصل ہے۔ قذافی کے بعد اسی کو لیبیا میں اقتدار اپنے ہاتھ میں لینا تھا۔ لیکن لیبیا میں انقلابی تحریک شروع ہونے کے بعد وہ بھی قذافی اور خاندان کے دوسرے افراد کی طرح روپوش ہوگيا ۔ اس کے دوسرے سارے بھائي یا تو مارے گۓ یا پھر فرار ہوگۓ لیکن ان کے برعکس وہ لیبیا میں ہی موجود رہا اور کسی نئي چال کے لۓ موقع کا منتظر رہا۔لیکن قسمت نے اس کا ساتھ نہیں دیا اور گرفتار ہوگیا۔ عالمی فوجداری عدالت نے ستائیس جون کو لیبیا میں مظالم ڈھانے کے باعث سیف الاسلام کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کۓ ۔ اس لۓ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے لیبیا کی قومی عبوری کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ملک کے معزول ڈکٹیٹر کے بیٹے پر مقدمہ چلاۓ جانے کے لۓ اسے عالمی فوجداری عدالت کی تحویل میں دے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے شمالی افریقہ اور مشرق وسطی کے امور کے انچارج حسیبہ حاج صحروبی نے زور دے کر کہا ہے کہ قذافی اور اس کے بیٹے معتصم کے گرفتار ہونے کے بعد جو واقعات پیش آۓ ان کے بعد اگر سیف الاسلام کو کوئي نقصان پہنچا تو ہم قومی عبوری کونسل کو اس کا ذمے دار جانیں گے۔ دریں اثناء یورپی یونین نے بھی لیبیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیف الاسلام کے سلسلے میں عالمی فوجداری عدالت کے ساتھ تعاون کرے۔ آئندہ ہفتے عالمی فوجداری عدالت کے جج لوئیس مورینو اوکامپو لیبیا کا دورہ کریں گے جہاں وہ اس ملک کی قومی عبوری کونسل کے اراکین کے ساتھ سیف الاسلام پر مقدمہ چلاۓ جانے کے بارے میں مذاکرات کریں گے۔ سیف الاسلام پر مقدمہ چلاۓ جانے کے سلسلے میں عالمی فوجداری عدالت کے اصرار کی وجہ سے لیبیا کی عبوری حکومت کے وزیر انصاف نے کہا ہے کہ سیف الاسلام پر ملک کے اندر مقدمہ چلایا جاۓ گا کیونکہ لیبیا کی عدالتیں اس پر مقدمہ چلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ محمد العلاقی نے کہا ہے کہ سیف الاسلام اپنے لۓ ملکی یا غیر ملکی وکیل حاصل کرسکتا ہے ۔ لیکن یہ بات مسلم ہے کہ اس پر الزام ہے کہ اس نے قذافی کے ساتھ مل کر لیبیا کے عوام کا قتل عام کیا ہے انقلابی تحریک کے دوران اس نے انقلابیوں کے خلاف بہت سی فوجی کارروائیوں کی پلاننگ کی تھی۔ لیبیا کی قومی عبوری کونسل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سیف الاسلام کا انجام اس کے باپ جیسا نہیں ہوگا اور اس پر ملک کے اندر منصفانہ طور پر مقدمہ چلایا جاۓ گا۔ سیف الاسلام کی گرفتاری کی خبر سے لیبیا میں خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئي ہے اور اس ملک کے عوام اس بات پر خوش ہیں کہ وہ لیبیا کے ڈکٹیٹر خاندان کے سب سے زیادہ خطرناک فرد کے شر سے محفوظ ہوگۓ ہیں۔

 ........ /169